زان نزول: سغصکمص ہے گا وم تہممس مسُمسوعمو <3
موضوخ اور مضائین: عم سی صس سسمسسسص مت"
نام :
آیت کے نقرےَا دی لِش دق من پّذبم ا کے سے اخوزے۔ اکر جہ اس سوروییل نماز بجع
کے اجام بھی بیان سیے گے ہیں, لیان ”جع“ پیشیت جھوگی اس کے مضامی نکا عنوان نیس ےء بللہ
دوصرکی سوروں کے نامو لکی ط رح یہ نام ھی علاممت بھی کے طور پر سے۔
زاد نزول:
پیل رکو ںکازمانہ نزول 7 عدے اورنفائا ہم خجیہر کے مو پر یااس کے بعد تم سی زمانے میس نازل ہوا
ے۔ بای مسعمء ت ریہ تساگی اور این جریراٹے ضحطرت الد ہریرٹاکی ىہ روابیت لف لکی ےہ بھ حضمو کی
حدرمت یل ٹیٹھے ہو تے جب بہ آیات نازل ہوعین نے حظطرت ابو ہیر کے ہتفصلق مہ بات مار سے
بت ہ ےک دہ نیہ کے بعد اور خر سے پیل یما نپا نے تھے اور خی ہکی رن این ہشام کے بقول
تم ء اور این سععد کے بقل ججمادگی الاو 7 7 ہوکی سے لبیل تین قباس مہ ےکلہ بمبددبیوں کے اس
آنخ رب یڑج ھک کر نے کے بعد الد تھا نے ا عکوخطا بک۷رتے ہو مہ آبیات نازل فرمائی ہو ںگا یھر
ان کا نزول اس وفت ہو اہو گا جب خی رکا امام د یک کر شالی جا زکی تمام بیبودسی بستیاں اسلا ھی علوم کی
جا فر مان بی نگئی میں
دو را روغ جثرت کے بعد ف ھی زمانے می میں نازل ہوا ے۔کیومکہ حور نے رین طیبہ یت ری
پا چوس روز جحعہ تا مک دیا تھاہ اود اس رکو کی آخری آیت میں جس واقع کی طرف اشار ہک اگیاے وہ
صاف بتار ہا ےکہ دہ ا قاممت جمع ہکا سلسملہ شر وغ ہونے کے بعد لانز نکی اپیے زمانے بی میس ٹیل آیا ہو کا
جب لوگو ںکود یی اجناعمات کے آدا بکی لو ریی تر ببیت انبھی نیس می عی۔
موضو اور مضان:
لی اکنہ او پر م با نکر گے ہیں۱ اس سورہ کے دو کو دو ایک زمانول میں نازل ہو یں اسی لیے دونوں
کے موضوع الک ہیں اور خاطب بھی انک۔ امہ چچہ ان کے در مان ابیک نو ںعکی مناسبت سے جح سک ہنا پر
انیس ایک سورہ میں ش عکیاکیا نے لان مناسبت جن سے پل تمیں دونوں کے مو ضو وا کو الک انگ
کجھلھناجا بے
پہلا کو اس وفت نازل ہو اجب ببہودیو ںکی و تا مکو ششیں ناعام ہو چچی یں جو اسلام ی۶ز فتکارائٹز
روک کے لیے یسل یھ سال کے دوراان یل انہوں نے پانگھیں۔ پسلہ ینہ یں ان کے تین تین طا تقر
تی رسول اللر صلی الد علیہ و سل مکو نیا دکھانے کے لیے ایڑئی جج ٹیک ککازور لگاتے رسے اور نشیہ یہ دیکھا
کہ ایک قبیلہ پوری طر ماو ہ دگیااور دو قیلو ںکو جلاد لن ہو نا یڑں پچ رووساز شی ںکھر سے عرب کے بہت
سے تما لکو بد نے پر ھا لا ۓ ہگ خزدہ از اب میں ان سب نے من ہک یکھاگی۔ اس کے بحعد ال کا سب
سے بڑاگڑھ خی رد ہگ یاتھاجہاں مدبینہ سے لے ہوے بیہودیو ںکی بھی بڑی تد ادج ہ دگئی تھی۔ ان آیات
کے نزول کے وقت وو بھی اغی کی خی ر مس ولیز حمت کے رح ہ وکیا اور یبددلیوں نے خودورخو اس کر کے
دہاں مسلمانوں کےکاشینکارو ںکی حیقیت سے رہنا تجو لک لیا۔ اس آخ ر یلست کے بعد عحرب میں بیہودی
طا تک پالٹل خاضہ ہ وگمیا۔ وادئی ال رگیء فک نہ تج وک: سب ایک ای ککر کے جتتصیار ڈا لے جلے گے ء
ہا یم ککہ عرب کے تھا دی ای اسسلا مکی رعایاب نکردرو گے نجس کے وج دکو ہر داش تک نانود رکنارء
جس کا نام سننا تک انی ںگو ارانہ تھا ٦ے مومع تھاجب اش تتعای نے اس سورہ ٹیس ایک ھرحبہ پچھر ال کو
نطاب فرمایاء اور غالبا یہ آخ کی خطاب تھماجھ تق رآآن مجید یس الن ےک یاگیا۔ اس میس انیس حخاط بک کے
ین پا فرماٹیگئی ہیں :
(١)۔ تم نے اس رسو لکو اس لیے مان سے انمکا رک یاکمہ یہ اس قوم یس مبحوت ہو اتھا سے تم عقارت کے
ماق ” أٹی “کت ہو۔ تہاراز عم پال بی تھاکمہ رد سول لاز تہارک ابیقی قوم ب یکا ہوناجا ہیے۔ تم یہ فصملہ ہے
ٹیٹھے جھےکہتماری قومے باہ رکاجھ شنص رسمال تکا دعوئ ککرے وو ضرور بچھوٹا ہے رکی کیہ ہے منصب
تہاری نل کے لیے جح ہو چا الس" میں“ میں مچھ یکوئی رسول خیں کا سکیا ۔ لیکن ابد نے ائھی
امیوں شی سے ایک ر سول اٹھااے جو مار پیچھپوں کے سا نے ا سک کاب سنارہاے فو سکات کی کر
راےء اوران للوگو ںکوہدایت دے رپا مج نک یگررابیکاحال تم خود جاۓ ہو مہ الک تل سے جے
چاسے دے۔ اس کے ض پر تہارااجارہ میں سے کہ صے تم دلواناجاہو ای آرزررۓ اوز کے تم وم رکھنا
چا ہو اسے وہ حر وم رتھے۔
(۴)۔ ت مکوگو را کا حائل بنا یاگیا تھا ء گر تم نے ا کی ذ مہ دا رک نہ گی ءضہ اداگی۔ تبہاراحالل ال ںگمد تکاس
سے مج سکی یھ پر کناڈیں مدکی ہوک ہہوں اور اس پھنہ یں معلو مکہ ومٴس جم زکا بر اٹھاۓ ہوئے سے۔
بللہ تار حاا تگمد سے سے بھی برتڑے۔ وو بچجھ پوچہ نہیں رکتا ہج رتم جھ وچ رککت ہو اور پگ رکناب
ان کے حا هو ےکی فدہ (ا کین ےرا زی لی نک رت دنت ال کی را تک ولا ےن بھی پا کین
زس ۔ اود ائل پر تہارا عم بی ےک تم الد کے یت ہو اور رسالل کی نلقت پمیشہ کے لیے قہارے نا مکی
دئگئی ہے ۔گویات ہار راۓ بی ےک خو اہ تم الد کے پیا مکا تق اد کرو یان ہککردہ بہرحالی ایند ا کا یابند
سے کیہ ود اپتنے پیا مکاعا گل قرارے بای اکوشہ بنا ئے!
(۳)۔ تم اکر دای ال کے بے ہوتے اور ہیں اک مین ہو جاک اس کے ہاں خمہارے لیے بڑکی عزت اور
قرو منزا تک مقام مفونڑے ق میں مو ت کا ایاخوف نہ ہو کہ ذظ کی زن دی قبول ےگ ر مور کسی
رح قیول ہھیں۔ بچی مو تکا خوف بی تو سے جن سکی بدولت پچچھے چند سالوں میں تم قلست پر قلست
کھاتے جلے گے ہو شہادریا ىہ عاات آپ بی ا با تگا یل ےکہ اپ ےکر فوتوں سے تم خووواقف
ہوء اور تہارا شی رخوب جانا ےکہ ا نگررتووں کے سا مروگے فو الد کے پاں اس سے زیاد*ذ یل وخ ار
بہوگے لے دنیائیل بہورے ہو
یہ سے پبیلہ رکو ں کا مشکھون۔ اس کے بعد دو صرا رو ء جو کی سال پییلے نازل ہو اتھاء اس سورہ بی لا ار
لیے شا لک مایا کہ اید تھالی نے بببودبیوں کے سیت کے متا بین مسلرانو ںکو جع عطافرمایاے ء اور
ایر تتعالی مسلمانوں ہو تہ فرمانا جانا ےک دہ ان بت کے ساتع وہ معاملہ نہک یں جو بیبددلیوں نے سبت
کے ساتف ھکیا تھا۔ ىہ روغ اس ودفت نازل ہوا اجب مرن میس ایک روز شیلن نماز جمعہ کے وفت ایک
تیارکی تقافلہ آیااور اس کے ڈعول ماشو ںکی آوا زی نکر12 آومیوں کے سوا قمام حاضرین مسر نبوبی سے
قا لن کی طرف دوڑ گے ھا لاکمہ اس وقت رسول ایند صی الڈدعلیہ و صلم خطیہ اد شاد فمار ہے تے۔ اس پھ
یہ عم دیاگیاکہ جت گی اذان ہو نے کے بعد ہ رش مکی خریدوفروخشت اور ہر دوس ری مصروفیت م ام ے۔
ای ایما ایام نیہ سےکہ ال دفت س بکام مچھوڑ پچھا کر ایر کے ذک کی رف دوڑہیں۔ ابد جب نما ز تم
ہو جا وا کیل فن ےکلہ اپ ےکیاروبار چلانے کے لیے ز مین میس کیل جائیں۔ احکام جعہ کے بارے میں
روغ ایک مسنقعل سور ق بھی بنایاجا یا سا ایض تی کی مان وا۔ لان ایا
رن کے یا نے فان ور پر اسے بیہاں ان آیات کے ساتھ اکر لاگیاجن میس پیبددبیو ںکو ان کے اضجام
بر کے اسباب پر تنب ہک یاگیاہے۔ ال کی مت ہمارے نزدیک دی سے جو اور ہم نے بیا نکیا ہے۔
مج اللَو الرٌَمً حدن ارجم
رکو۶
یلما فی الشد وت ما ف الاَزض الْمَيِكِ الْقُس الْعریر الَییم ا2 مُوَالْدِیْبَعَتَ
الْأيِيَْ رَمُوْلَا يمْنَغْيَنْلوْا مَلَيْغ ایيمِد يُرَلُمْهدَيْعَلِنَغٌ عَذْنه ِب وَالِکكمَة و
اِنْ فَانُوا مِن قَبْل اَی صللِ مُبَِیْن اڈ احَر ین مدف تکا يَلکوا بر ةَ هُوَالْعِيْزُ
الک :۶ ذٰلِكَ فَضْل اللہ تید من بَکَا٤ٌ ,-0.09.0--
خُیدوا النَُوْرنةدُ كُوتَ فََيلُوْمَا تغل افيمَارِ فََمل مقار ۹ ٌٌاھ0
لَزيْح کّوا ایت الو الله یھی الَقَوْم الشَِْيْحَ 2 قُليَأيهھا الَنِيِنَ مَاهذَا١ِن
سموسم وی فَمَمَلُوا الْمَوْتَ اِنْ كُتعْ صِيِقِیْمَ رد لا
97ت
م_ 2۶2
ے۔ وو وو
جس تال غلِم الْقَیْبِ وَ الفَّهَامَةِ فَیْنَبِْتُک م بنا نَم
ََ۔
١ رکوع
کے نام سے جو رن ور تیم ے۔
ال کی سخ کر بی سے ہر وہ یز جھ آسمانوں بیں سے اور ہر دہ یز جھ زین میں سے 20“ بادشادے ء
وس ے ءزبروست اور حیع سے" _
وی سے جس نے ائمیوں2 کے انلدب ایک رسول خود اٹ ھی بیس سے انٹھاباءجھ ایس ا سکی آیات سنا تا سے لن
کی زن گی سفوار جا اور ا نکو تاس او رحس تکی اعلیم دیتاے تے لاگ 20007 ایا
پڑے ہوۓ ےپ" ۔ اور(اسر مو لکی لعش/) ان دوسرے لوگوں کے لیے بھی سے جو ابھی من
سے ون لے ں5 ال زیر دست اور گیم ے 8 یں کا تل سے ت چاہتاے دیتاےءاوروہبڑا
نل فرراے والاے۔
جن لوگو لکوت را کا حائل بنا گیا تام أُغہوں نے سس کابار نہ اٹھا یا ا نکی عثال ا سمگمد حے ےکی سی ے
جس پ رکناڈیں مدکی ہوٹی ہوں۔ اس سے تھی ز یادہ بی مال ے ان لوگو لکی جنہوں نے ال کی آبیات ٹلا
دیاے 2 اے امو ںکو الاڈ ہد ایت غیں دی اک ما
07 ا ا ا ا 0 ال تتلچیں کھعاز ےب بائی سب لو یز کر
جس تم می الد کے جن ہو 1ل نمور کی ق اکر و اگ ر تم اپنے انس زم یس ہے ہو" 12 کی کون
گی تخمقان ہکرس کے اپ ےکر نوتو ںکی وجہ سے جو یکر گے ہیںء لگ اور ابند ان ظلامو ںکوخوب جانا ے۔
ان س ےکپو "نخس موت سے تم پھاگتے ہو دو صکھمیں کر رہ ےگی۔ پچ رتم اس کے سان یی سی چا گے
جو و شیردد ظا رکا جانۓ دالاےء او ر سی بتاد ےگ اک ہت مکیابش کرت رے ہوم ١
سورۃ الجمعۂ حاشیہ تسبر: 1 ھ
رق سے لے ملاحظہ ہو تیم ال آن, جلد جمء تیر سورہ عدیدہ حواشی 0ء اش حواشی 6
1-۔
آگے کے مصمون سے بہ تمہید بڑیگبرکی مناسبت رت ے۔ ععرب کے پیپودیی رسول اید صلی الل علیہ و
سم مکی ذات وصفات او رکا ناموں میں رسمالن تکی ص رت نناہیاںہ نتم سردسھ کین کے پاوجھدء اور انس کے
اوج دک ہتوراوٹیس حخرت موی علیہ العلام نے آنپ کے ان ےکی صر بشارت دی شیج آپ کے سوا
میا اور پر چسپاں یی ہہو تی یہ صرف اس :ناپ رآ پکااڈ انکر رہے ےک ابیقی قوم اور مل سے پاہر کے
می و سک رسالت مان لینا انیس حخت ناگوار تھا۔ وہ صاف سکی تھےکہ ج ہہ ہارے ہاں آیا سے جم
صزرف ات یکو ٹیس گے. دم ری گنی ی اتل مک کسی خی ام رائکی یش ریزنخ اود زائ کی
طرف ے ہو, تل مرنے کے لے وہ فطعی ترجہ تے۔ آم ےکی آہوں ٹیس ای روے پر انیل ملاص تکی
جارہی ہے ءا لی ےکا مکا آغخاز اس تمہیاری نقھرے سےکیاگی"اہے۔ اس میس می بات مہ فرمائ گی ےک
کانیا تک ہرز اش دک تن جک رج ہے۔ ]شف رہ پور یکانحات اس بات پد شاہد ےکہ اللہ ان ترام ان اور
دربیوں سے پاک سے جہ نکی بناپر یبددیوں نے ایق صلی برتزئ یکا تصور قائ مک رکھاہے۔ دو یککار شت دار
یں ے۔ جاب دارگی )۴۰۸۷٥۵07٥٢ ٥0( کا اس کے ہاں کو یکام یں ای مرازیی ححلوقی کے مراخھ
اکا معامل ہباساں عرل اور ححت اور ر ہو بی تکاسے ۔کوکی اص نل اور قوم ا کی چڑقی یں ےکک وہ
خواہ پچ ککرے بب رحال ا سکی نو ازشمیں اسی کے لیے مخصمو ضس رہیں, او ری دوس ری نل یا قوم سے اس ںکو
عد اوت کیل س ےکہ دہ اپے اند رخ بیاں کی رھقی ھ فودہ ا سک حنایات سے حروم در ہے۔ پھر فرما اگ یاہ
دہ بادشماد ہے ء می دنیاک یکوٹی طافت اس کے اختیارا کو محدودکرنے والی یں ہے۔ تم بندے اور ر یت
ہو۔ تہارابہ منص بکب سے ہ وگ اکہ تحم یہ ٹ ےکرک دہ تمہاری ہدایت کے لیے اپنا ٹس رسے بناۓ اور
سے نہ ہنائے۔ اس کے بعد ار شاد ہو اکمہ دو قرو ہے ىڑی اس سے بد رجہ اذہ اور پک کہ اس کے
لہ می کی اور کش یکا کان ہو شی تہاری بجہ پوچھ میس ہوسکتی ہے۔ اس کے یہ یس نہیں ہو
لآ ا یکین سان اتی ونیک ت3ت لی از انکر
کوئی جیت نیں سلنا۔ دوس ری ی کہ دو جیعم ے فی جج کر ا وو مین خظتضنا ۓے دالس بہو ما ء اور اس
گی ہیی ای تلم ہوئی ہی ںکہ دنا سلکوک ا نکانو ہی ںکر تا
سورۃ الجمعۂ حاشیہ نمبر:2 ھ
یہاں أُٹی کا لفظ مہو دکی اصطلا کے طور پر آیاےء اور اس میس اسیک لطیف طت لو شر ہے۔ ال کا مطلب بے
ےک ج نکوببددی ارت کے سا أٹی کے اور این مقابلہ میس پیل مجکتت ہیںء انیس میس اللد اب د
دانانے ایک ر سول اٹھایا ے۔ وو خود کی ا کھٹراہو اس لکیہ ان سک اٹھانے دالا دو سے جو کا ما تکا بادشاہ
ء زبروست اور عیعم سے ء جج سکی قوت سے لک یہ لوگ اذا ہی پل بگاڑ ہیں کے ء ا کاپ نیس گاڑ
سکتے_
معلوم ہوناجچا ہب ےکہ ق رآن ید یس ” أفی “ کالفظطمتحدد مقامات پر آاے اور سب کہ اس کے معن ایک
تی نی ہیں بللہ نلف مواقح پر وہ ملف معنوں مس استعال ہوا سے ۔کہیں دہ ا لکزاب کے متا لے میس
ان لوگوں کے لیے استعا لک ایا سے مجن کے پا ںکوکی آساٹ یکتاب یں سے ج سکی پروی دہکرتے
رن ہہ
ہوں۔ شا فایا:قُل يُذزِیْنَ أُوْتُوا الب وَ الايْيْنَ ءَامْنَمَڈ ) آل عمران۔20)۔ ” اٹل
تاب اور أُغیوں سے پو چچھ کیا تھم نے اسسلام مو لکیا؟” 7 ا" "رت
کو اہ کراب “و یبددو نصاریی سے الک ای کگردہ قرار دماگمیاے ۔می عجلہ ىہ فغظ خود ال لکناب کے ان
پڑھ اد راب الد سے نا واقف لوگوں کے لے استعال ہوا ے۔ جیسے فرمایا: ےہ ڑھ أشْھُوْنَ
َعْلُونَ الحِلت ال ماق (ا بت 78)۔” ان یبددیوں جم لہ لوگ ائی ہیں کتناب کاکوکی علم
ین رن یی رکوس ٹساف ہیں “وو کی کک ابو اصطا )گے طور پر
استعال ہوا ہے جس سے مرادد ا کے تھام یر ببودی ہیں۔ شا فراي:ٰلِكَ بات كَالُْا لَيْس عَلَمْتَ
وی
الاِیْنَ 807 (ل عمران۔75)۔ من ۳ ان کے انعرر یہ پٹ دیا تق بی ا ھن ےکا سب پیر ےک دہ
کت ہیں نیو ںکامال ما رکھانے میں ہم پ کوٹ یگرفت یں سے ”.بی قبسرے مجن ہیں جو آیت زیر حت
یش مراد لیے گے مہیں۔ مہ لفط عبرالی زان کے افو یھ مکابم می نے اج س کات جمہ اگ ربدی اتیل میں
5ہک ماگیاےء اود اس سے راد قمام غیر یبددیی یا غیر اس انی لوگ ہیں۔
ین اس بیودیی اصطلا ںکی اصل معتویت شض ا سکی اس تق جع سے مھ میں نیس سی در ال
عب رای ز با نکا اف دگو یکم ابا شض اقوام کے من میس ہوا جات تھہ لیکن رف رفۃ یپددیوں نے اسے پسلے و
ان سوادوسری قوموں کے لیے مخصمو کر دیاءپچھ راس کے انعدر یہ می پیلد اکمر دی کہ بیبددبیوں کے سوا
ائی تام اق وا ناشائتء بد خذجبہ نا پاک اود ذلحل ہیںء جن کہ حقارت اور نفرت مس یہ لفظ یو ننیو ںکی
اصطلا ۓ 81۲3٥18٥٥ سے بھی بازکی لٹ ےگیا سے وہ تام غی ریو نانیوں کے لیے استحا لکمرتے ےر بیویں
کے لپ می ںکویکم اس قدر مقائل نفرت لوگ ہی کہ ا نکو انساٹی بھاکی یں مچھا جا سلتماء ان کے سساتھ
مف خی سکیا جا سنا بکنہ ان میس س ےکوئی تخس ڈوب رہاہو تو سے بیان ےک یکو شش بھی نھی ںکی جاسکقی۔
یبددیو کا عقید ہبہ تھاک نے والا کی ا مو ٛ مکو ہلا کر د ےگا اور جل کر امت کر ڈانلے گال( بد
ت رع کے لے ملا جظہ ہو تیم ار آنء جلر اولء آل عمرانءعاشیہ 64)۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ نمبر:3 ھ
ق ران ید یس رسول اود صلی الد علیہ و سل مکی ىہ صفات جار متقامات پر بیا نک گئی ہیں ء ادد ہر نہ ان کے
بیا نکی خر ملف ے۔ البقرہ آبیت 129 بی ا نکا ذکر ایل عر بکو یہ بتانے کے لم ےہک ایا کہ
فور کی بعشتہ صے ودانے لیے زحمت دمصیبت مجر سے تھے ء در مقیقت ایک بڑکی غلقت سے جس کے
لیے حقرت ابر ایم اور حضرت اسم یل مالسلا فی ادلاد کے لیے الد لی سے دعائیں ما اکر تے تے۔
التقرہ آبیت 151 یس اکییں اس لیے بیا نک یاگھیا ےک مسلمان حضو کی ققدر پا میں اور اس نقت سے پو را
پور ٹیش حا ص لکررمیں جو حضمو کی عش نکی صورت ئیل اللہ تما ,ا یں عطا فر مکی ہے۔ آل عمرا نآیت
14 میس من شقن اور تعیف الا یمان لوگو ںکو ہہ احسائس دلانے کے سی ا نکا اعاد ہک ایا ےک و ہکتنابڑا
اتسائنع سے جو الد قعاٹی نے الع کے در میان اپنار سول مھ جک کیا سے اور یہ لوگ سکٹے نادان ہی کہ ا کی
تقدرخیں - و کہم - ان سرن در ایا جںے متصورپہورلوں اکور بتاناے
کہ مھ صلی الڈر علیہ و ملم تمہہاری گھموں کے سان جوکا مک ر سے ہیں دہ صربج] اسیک در سو یکاکام ہے وہ
ای آیات سناار ہے ہیں مج نکی زبانء مضام٢نء انداز الہ ہر چنز اس با تک شہادت دیق س ےکم فی
اوخ دہ اللد بی گی آیات ہیں۔ وہ لوگو ں کی زندگیاں سنوار رس ہیںء الن کے اخلاقی اور عادات اور
معاملا تکو ہر طر کیگندگیوں ے پا کک رہے ڈیں اور ان کو اع در ہے کے اخلائی فضائل سے آراست
کر رے ہیں۔ یہ دا یکام سے جو اس سے چیہ تام انمیامکرتے ر ہے ہیں۔ پھر دہ صصرف آیات بی سنانے یھ
٭ھ
ئب
ان یں کرت کرت اپنے قول اور کل سے اور ابق زن دی کے خھونے سے لوگو ںیک کراب الی
انا مھا رے ہیں اور ا نکو اس محکمت ودانائ کی نمیم دے رسے ہیں جو انھیاء کے سوا جم کم نے
یں دکی٤ے۔ بھی سیر ت او رک دار اورکام بی تو انبیامکا دہ خمایال وصصف سے جس سے وہ پچیانے جات ہیں۔
رب کیی+جہٹ ددھ می ےکلہ خ٘ سار سول بحم ہونا اس کے کا نول سے علاشیہ ایت ہر پاسے اس کو
ان سے تم نے صمرف اس لیے اکا کم داکنہ ان نے اسے ت ہار قوم کے بجھائۓ اس قوم یں سے اٹھایا
سے تم اٹ یک ہو۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ تشمبر:4 ھ
بی تضمو کی رسمال تکاایک اور شوت ے جچ پپذدلو ںکی ھی ںکھو لے کے لے یلک ایا ے۔ بی لوگ
صعدرلوں سے عر بک عرز مین یں آباد تے اور ایل عز کی نی اخلاقیء محاشرثیء اور تھد یز ن دگ یکا
کول یگوشہ ان سے چیا ہو انہ تھا۔ ا نکی اس سای عال تکی طرح پشارہکرے ٹرمایاجادہا ےک چن سال
کے اندر مج صلی اللہ علیہ سس مکی قیادت ور نماک ی ٹیس اس قو مکی شی ایال ٹگئی ہے اس کے تم می شاہد
ہو۔ تھمہارے سام دوعالت بھی سے جس میں یہ لوگ اسلام تو لکمرنے سے پبیلے متا تھے دوحالت کبھی
ہے جو اسسلام لانے کے بعد ا نکی ہ وگئیء اور اہی قوم کے ان لوگو ںکی حالت بھی تم دس رسے ہو جہوں نے
بھی اسلام قول نی ںکیا سے کیا کھ الا فر یہ جے ایک اند ہا بھی دہ سنا ء میں مہ ین دلانے
کے لی ےکافی نیس ےکلہ یہ ایک نی کے س اکس یکاکارنامہ نویس ہہو سلنا؟ بکنہ اس کے سان فو کیج انبیاء
تک کےکارناے ماند یڑ گے ہیں۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ شمبر:5 ھ
یجن مجر صلی ابند علیہ و سل مکی رسالت صرف عرب قو م کک حدود غییں سے بل د ٹیا کی ان دوصری
قوموں اور شموں کے لیے بھی سے جو ابھی کر بل ابیمان مس شثائل نیس ہوکی ہیں گ رآ کے قرام کک
آ نے دالی ہیں۔ اص الفاظ ہیں وَاحَریْن یسنہ لنّا بلک بہع۔ ” دوسرے لوگ ن میں ے جھ
ائھیُن سے نہیں لے ہیں “ لس میں لافطا ےہ (آن یس سے )کے دومطلب ہو کت ہیں : الیک ب کہ دہ
دوسرے لوگ اقھیوں میں سے دای خی ر اس رای توموں ٹیں سے ہہوں گے دوسرے بی کہ دہ ھ
صلی اللہ علیہ و سل مکومانۓ دانے ہو گے جو ا بھی بل !یمان میس شائل غییں ہوۓ ہیں گر بعد میں ہک شال
ہو جاکیں گے۔ اس رح مہ آیت صن جملہ ا ن آیات کے سے مجن میں تص رت ےک یگکئی ےکر سول اود صلی
ال علیہ و س مکی بعشت تمام نوع انا لی رف سے اور ابا میک کے یے ے۔ ف ران مجر کے دو ہے
معقامات چہاں اس مشمو نکی صراح تک یگئی ے ء سب زی یں ذالاثغامء آیت19۔الا۶راف+158۔
الاخیاءہ107۔ الف رقان٤1۔سباہء28( ریت رن کے لیے ملاحظہ ہو تیم الق مر آنء جلە چچارمء تی رسورہ
سباء عاشیہ 47)۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ نمبر:6 ھ
یی ىہ أ یکی قدرت و سکم تک کرشم ےککہ ایک اڑسی نات اشیدہ اٹی قوم میس سس نے ایسا تیم نی برا ٤
ج سک لیم بات اس ددجہ اقب /گیزے+اور را یے عا نہر اصوو ںکا حا ہے جن پر تام
و ایال نکراک امت بن سک سے اور بییشہ پھیش أن اصولوں سے ر جنمائی اص لکرسکتقی سے ۔کوکی
ای انسان خواءکنٹی ب یکو شن شک راہب متقام وم رجہ بھی حاضصل خی ںکر سکنا تو عرب جیسی لہساندہ
قوم ود رکنارءدنیاک ی کسی بڑھی سے بڑی قو ماک کی ذین سے ذبڑین آدٹی بھی اس پر تماد ر نیس ہو سلناکہ ایک
قو مکی اس طرح مل طورپ رکایاپٹ دےء اود بجر ایپے جام اصول دمیاکودرے دے جن پر سماری نوں
انی ایک امت ب کم ایک دین اود الیک تیف یب کا عا لیر و ہم ہگیر فظام بتک چلانے کے مقائل ہو
جائے۔ مہ ایک مج زدے جو الل کی ققدرت سے رو نما ہو اے ء اور الد دی نے اپپتی حکھس تکی بنا بر جس تمشح ,
جس ملک اور جس قو مکو چاپاے اس کے لیے انتا بکماہے۔ اس پر اگ کی بے وو کا ول وکا ے لو
رکتارے۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ ٹتمبر:/ ھ
انس فقرے کے دو معن ہیں۔ ایک عام اور دوس رامائیں۔ عام مع یہ ہی ںکہ جن لوگوں پر تو را کے حم و
مل اور اس کے مطائشی دناکی بد ای تکا مار رکھاگیا ہھاپچچینہأُنہوں نے ابق اس ذمہ داد کو ھا اور شہ
اس کا جن اداکیا۔ اص مع مہ ہی کہ حائل فورا گر دہ ہو ےکی حیشیت سے جن نکاکام ریہ تھاکہ سب سے پیل
آگے بڑ ھکر أس رسو لکاساتقھھ دتنے شس کے لان ےکی صاف صاک اثارت ورائ میں دب یگئی می گر
أغہوں نے سب سے بن کر ان سکی خال فک اور تورا کی یم کے تقا سن ےکو لو رانہ بات
سورۃ الجمعۂ حاشیہ تمبر:8 ھ
بجی جس طر مد سے پ رکتاہیں لدی ہوں اور دہ ٹیس جان کہ ا سک پیچھ پ رکا ء ای رع یہ پذرا کو
اپنے ادپر لاادے ہہوے ہیں اود یں جا کہ مکنا ب مس لے کی ہے اور ان سکیا حاہتقی ے۔
سورڈ الجمعۂ حاشیہ تمبر:9 ھ
ین ا نکا حا لگمد ھے سے بھی بر ڑے۔ دو بجھھ پوچھ نیس رکتااس لیے مفرورے ۔تریہ بج اوہ رت
ڈیں۔ فورا کو پڑت بڑھاتے ہیں۔ اس کے صلی سے ناواقف میس یں بجر بھی مہ ا لک ہرایات سے
دانستہ اتحرا فک رے ہیں ء او رس ن یکو ما تۓ سے قص رآ انار کر سے یں ج را کی روسے سرار 20
ہے۔ یہ نا بھی کے تصمور وار غییں یں بلنہ جان وچ کر اڈ کی آیا تکو مھٹلانے کے مج رم ہیں۔
سورڈۃ الجمعۂ حاشیہ ٹمبر:10 ھ
بی مقطہ تقایل پوجرے۔” ے بب و دلو“ تی یکا لہ آے وولو ھ2 ا” مہوں ے
ببودیت اخختیا کر کی ے“ فرمایاہے۔اا کی وجہ بی سس ےک اصمل دین جو موک علیہ السلام اور ان سے پیل
اور بعد کے انام لا تھے دو نو اسلام بی تھا۔ ان انیاء مس کوٹ بھی بد دی نہ تھاء اور نہ ان کے زمانے
ٹیش بیہددیت پیلد اہو ئی تگیا۔ یہ مہب اس نام کے سا ہت بحع ہکا پادار ہے۔ یہ اس خائند ا نکی طرف
موب سے جو حضرت لعنقوب علیہ السلام کے چو تے بے بیبودا ہکی نل سے توا۔ حضرت سلممان علیہ
سام کے بعد جب سلطدت و وکلڑوں میں تنمیم وگ يہ الد ان أش ریاس تکامانک و اجو یہددی 2
نام سے موسوم ہو ٹیء اور ہنی ار ائٗیل کے دوسرے قھیوں نے انی ایک ر یاست تقائمکم لیج سام ریہ کے نام
سے مشہور ہوگی۔ پچ رآسیر انے نہ صعرف یہک سام ری ےکوی با دکر دیابللہ ان اصرائگی قمیلو ںکانام ونشان مٹا
0 7 0ل وچ ا ا ا
مس پر ہوداہ گ ال ے ظلے گی وجے ” بیہود“ ہی کے لفنکا اطلاقی ہہو نے لگا۔ انس رھ
اور ربیوں اور اجار نے اپنے اپنے خحیالات و نظریات اور رجمانات کے مطال عقائکد اور ر سوم اور نم بی
ضواب ا کاجھ ڈھانجہ صد بارس میس تی رکیاء ا سکانام یہددییت ے۔ مہ ڈھامھاجچ ھی صدی فحل می سے بنا
شروع ہوا اور پا نوم صدکی یسوی کک بش رہا۔ الد کے رسولو ںکی لائی ہو گی رہل رای تکا بہت تھوڑای
غمفمر اس ہیں شائل ےء اور ا سکا خلیہ بھی اپچھاخاصا مگ جکاے۔ اىی بناپر ق رن مجید یں اکر مقامات پر
ا نک انی ھا اک ہکر خطا بکیاگیاے میتی ” کر رک را
سپ ےنپ ات ای می تپ خی اع انل لو کی تھے ضضٹوں نے بب دییت تو لک کی تھی ۔
ق ران میس جہاں تی اص رات لکو خطا بک یاکیاے دہاں اے بی اص راجیل “ کے الفاظط اتال ہو ے ہیں ء
اار جہاں مم ہب بدد کے یروف کو خطا بک یاگیاے وہاں لن جع شَا ہا کے الفماظط اتال ہو ۓ ہیں۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ تمبر: 11 ھ
ق ران ید ٹیش متنعد متقامات پر ان کے اس دجو ےکی تفضیاات دب یگئی ہیں۔ مناا وہ سکتے ہی ںکہ بیبددیوں
کے سو1کوکی جنت میں داخل نہ ہوگا(البقرہ۔ 111) یی دوز غکی آلگ ہ رگز نہ مچھو ۓےگیء گرب مکو مزا
لے گی بھی تو بس چنر روز (البقرہ_ 80ء ل عحران۔ 24)۔ ہم الد کے بے اور اس کے ہی
یں (المائدہ-18) ا ےے می یھ دعدرے خود ببدداو کی ابق یکنابوں میس بھی لے ہیں ۔کم اکم ىہ بات و
سارکیاد نیاجا فی ےک دہ اپنے آ پکو دای ب رگز یرہ مخلوقی ( [۲۷9۷۷۸۵ 0 0) کے ہیں اور انس زم
ین ناڈ نک: رتخد ان کے عیاش ایک نان رشنترے ج می ددم نے الما یگم ود یں ے۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ ٹمبر:12ھ
بات ت رآلن ید یل دوصرکی عم رحبہ یبددلیو ںکوخطا بک ک ےک یکئی سے۔ پییلہ سور ویر میں فرما ای تھا“
اع ےکہو اگ ر خر ت اح م قام انسانو ںکو کچھو کر صصرف تمہارے ہی لیے الد کے اش ححص وص سے ف پھر
تم مو کی ت من کرو اگ تم اپنے اس خیال یں تج ہو۔ لین يہ ہ رگز ال کی فا ہیں کے اپے گن
کرٹونو ںکی وجہ سے جو یہ کر گے میں ء اور اد ظالموں اکوخو جاتتاے۔بللہ حم قمام انمائوں سے بڑھکرہ ت کہ
مش کین سے بھی بڑہ ھک را نکوکسی ن سی عطر جی کا ھ یش پل گن می ےکوکی یہ چابتا ےک ہترار
بر جیے ء عالاکمہ دہ لی عریا ےجب بھی أسے یہ زع اب سے نکیل بجچاستی ان کے سار کم فووت الد
کی نظ رییش ہیں“ (آیات 94۔96) اب ای با تکو پھر یہاں دہرااگیاے۔ لیان ىہ مھ کھر ار نہیں
ہے۔ سوروبقرددالی آیات میس یہ بات اس وق ت کب یگئی فی جب بہددبیوں سے مسلمافو ںک یکوگی نک نہ
ہوئی تھی اور اس سورٹائی ا س کا اچک یس وقت یاکیاے جن ان کے سا تھ مد مص کے ہیں نے کے
بعد عرب میں آخری اور تلحی طور پر ا ازیو نٹ دیاگیا۔ ان مرکو نے ء اون کے اس اضام نے وہ
بات تجربے اور مشاہدے سے اب تکر دی جو لے ک بق رہ میک یکئیتی۔ دنین اور تم میں بیہودی
طائت بلیاطا تعد او مسلرافوں ےکی طر حکم نہ تعھیء اور بلحاظنوسانل ان سے بہت زیادہ تھھی۔ پھر حرب
کے مشرکین اور مریے کے مناضقین بھی ا نکی پشت پر تا لا سلمانو ںکو مڑانے پر ے ہوئے
سے کن جس تن ایض ما کا ز× لو نف کیو تک
مسلمان راو دای ھمرنے سے خائکف پذدرکنارء ید ول سے اس کے ہشتاقی حے اور س رس شمبی پر لیے ہو نے
نع مک پوس ےتکن تین انس اتک لن فا وومد اکی را میس لد ے یں ء اور ود ال
ات پر کگی اٹل ین رت ت ےہ ال دراؤئیس ش وید ہے وائے کے لیے جن ہے۔ اس کے ہ رحس
ببددیو ںکاحال ىہ تھاکہ د می راہ ٹل بھی سان دینے کے لیے خاش تھے شہ دای راہ یش نہ قو مکی راہ
ہت خَو دای خان دای اوزعزت گی زاوشین۔ این صرف زن گی درکازتھی: خزود ہنی کی نظ گی
ہو ای چزنے ال نکوبزدل بناد یا تھا_
سورۃ الجمعۂ حاشیہ نمبر:13 ھ
الفاظط دعگر ا نکیا م١ت سے بہ فرار بے سبب میں ہے۔ دہ زربالن سے خو اہ کے بی مے چوڑے دعوے
ری مرن کے عی رخوب جات ہی کہ حد اود اس کے دن کے سساتج ا کا معامط ہکیاے ء اور آخرت
یش ان حرکوں ک ےکا تاج کی وش کی جات ہے جو دودنیائی کر رہے ہیں۔ ای لے ا کاٹس خداکی
عل ال تکاس من اکر نے سے گی تج اتاہے۔
٢۶وکر
0 0 0 9ر وک ا ار ہر
و ےطم کیک دیڑوشی سو کیہ ہس۔ و۶ ےج ھے
الْبَيْعٌ یکم عَیَْلَکُم!ِن کُنْثم تَعْلَمُوْنَ :3 فا٥ا قَضِیَتِ الشَّلوة فَانْمَیرُا پ
اض وَ ابْتَغُوا ١ن فَضِْ الله ۃ اذُکُزوا الله كيا لَعَلصُۂ تُنْإنُوَ 2 اذا راو
دہ پےہ
كي_َارَة آؤ لِھُوا انْتَضْرَا ائیچڈ تَرَلَوك قَابماٴ َل کا عئر ال فكعن الوم
٢ رکوع
ۓل وکو ئن لاۓغے ہوء جب پکارا جانے نماز کے لے ج تل کا دن جل پو ال کے ڈوک کی طرف
ووڑواور خر پر وفروخت گھوڑ دوقلا ىہ تمہارے لے زیادہ کشر سے اکر تم جانو۔ پچ ر جب نماز بیو ری ہو
جاۓ نے زین میں کئیل جا اور اد دک فضل ملا شش کرو _ اور ادڈ رک وکثت سے یا دکرت رہوگ شید
کم ہیں فلا نصیب ق2 ہو جائۓ_
اور جب أنہوں نے ارت او یل تاشاہوتے وریکھافذ ا سکی طرف لیک گے اور یں کھٹراسچھوڑ دہ
9۔ ان س ےک وج یھ اٹل کے پاس ہے دو کیل تمانے اور ارت سے بہت سے 0ا2 اور الد سب سے اہر
رزقی دنۓۓوالا ے21 ۔- ج۴
سورۃ الجمعۂ حاشیہ تمبر:14 ھ
وس فنقررے میں تقین پا یں اص طوری رف جہ طلب ہیں :ایک ب کہ اس میں نماز کے لے ناد یکر ن کا ذکر
ہے۔ دورے ب یہک گی ایی نما نکی نمناد یکا ذکرے جو اص طور پر صرف جع کے دن ہی بڑ ھی عالیٰ
چا ہیے۔ تیسرے بی کہ ان دوفوں چیزو ںکاذکر اس طرں یی لک گیا ےکہ تم ما کے لیے ناد یکروء اور
بے کے روز ایک خای۶ی ماز پڑھاکردہ نہ اندانز بین اور سیاقی دسباق صاف تاد ہا ےکہ نما نکی ماد اور
ےکی منعموس خمازہ دوٹوں لہ سے ہار شویںء الب لوگ بہ ش٥ یکر ر سے ت کہ جج ےکی منادی ش کر
ماز کے لیے دوڑنے میں تسائل بر ےہ تھے اور خر بیدو ف روخ تکرنے میس گے رتے تے ہ اس لے الد تعالی
نے می آیت صصرف اس خر کے لے ناز مال ی کہ لوگ اس منادیی اود اس خماصی نما زکی ابھیت موس
رم اور ف رض جا یکر ا سکی طرف دوڑیں۔ ان تمتوں پاتؤں پر اگ و رکا جاۓ و الع سے ہہ اصولی
حقیقت نلمی طوریر ارت ہو حائی ے الد تھا لی ر سول ال صلی ایند علیہ ول مکو یھ ایی احکام بھی د یت تھاجھ
ق مان میں نازل نیس ہو ء اور دہ احکام بھی ای ط رح واجب الاطاعتٹ حے جس طرح ق رن میں نازل
ہونے وانے احکام۔ نما کی منادکی وی اذان ہے جو آنج سارکی د ٹاش ہرروز با وت ہر مسج بی دی جا
رہی ہے گر ق رن مم سکسی تہ نہ اس کے الفاظ بیان کے گے ہیں ن ہیں مہ عم دیاگیا ےکک نماز کے
لیے لوگو ںکو اس طط پکاراکر و۔ یہ چیزر سول اواڈد صلی الڈد علیہ و سل مکی مقر رک دو ہے۔ ق ران بیس دو لہ
صرف ا سک نو ش یک یکا ےء ایک اس آیت می دوصرے سورددائد وکی آیت ۵۸ یں ای رح جع
گی بی خاضص نماز جآ ساری د نیا کے مسلمان اد اکم ر سے ہیں ء اس کا بھی ق ران میں نہ -٥ امیا ے تہ وقت
اور لٹ ادابنایاگیاے۔ بہ طر ویقہ بھی رسول اکرم صلی الد علیہ وس مکا ار یکر دوے ء اود ق رآ نکیا ىہ
آت صرف ا سک اعیت اور اس کے وجو بک شزت بیا نکر نے کے لے نازل ہوکی ہے۔ اس ص١ رت
عم 7۔ تا ےک ش گی احکام صرف دی یں جو خرن بیس بیان ہو ۓ ہیں ء دو در اصصل
لق تکا یں خود ق رآ نکامکھرے۔
آگے بڑ نے سے پیل بت کے بارے میں چند مور اور بھی سان لیے جاننبیں :
-..-..۔....۔۔ بعد درامل ایک اسلائی اصطلابح ے زمانہ جا لیت بیل ائل عحرب اسے لوم خڑ وت کہا
کرت تے۔ اسلام میں جب ا سکو مسلمافوں کے اجتما کا دن راد دیاگیا نے کا نام جحعہ رکھاگیا۔ اگ چیہ
مور ین سکیے ہی سک ہکحب بن ,شش نبکلاب نے بھی اس دن کے لیے ىہ نام اتا کیا کی کن
اس روز وہ رای سے لوکوں کا اجا ٹیک رجا تما الاری )لیکن ئن کے اس نل سے ققدیم نام تپدریل
نی ہواہ لہ عام ال عرب اسے عزفیہ بی کے تے۔ نام یق تبد بی اس وقت ہو گی جب اسللام میس اس
دن کا یہ انام رکھاگیا۔
و ا( لئ لن کا ایک دن عبات کے لیے تخوم صسکرنے اور ا سکوشیعار مت تقرار د ہے
کا بقنہ ال لکتاب میں موجود تھا۔یہددیوں کے ال اس غرضض کے لے صیت (ہفن مکادون مقر رک ایا تاء
کی کیہ اسی دن الد تی نے بی ا رانک لکو ف رعو نکی ملا بی سے خجات دئی تیا۔ عیسا کول نے اپنے آ پکو
میں ے ۴ بی کے تقر رت الا رکارن ٹر اردیا۔ اگم رجہ ان ںکا کول من حطضرتے می
نے دیاتا نہ ا کیل می لکہیں ا سکاذک ہآ یاہے, لیکن عیسائیو ںکاعقیددبہ ےک صلیب پر جان د نے کے
بعر حضرت می سی روز قیرسے لگ لک 1سا نکی طرف گئے تھے ای ہنا یر بعد کے عیسائکوں نے اسے اپاقی
عباد تکادان قرار دے لمااور بر۱ ٣۳ء میں روٹی ساطلنت نے ایک عم کے ذریجہ سے ا سکوحاھر تل کا
ون مقر کر دیا۔ الام نے ان دونوں میوں سے اپقی لت کے کے سے دنن یکر
کو اچم گی عبادت کے لے اخقیا رکیا۔
06 :.. مضرت عب ال بن عپائ اور حظرت الو مسحود انصا رک کی روایات سے معلوم ہو ما ےکلہ
یق کی فرضی تکا عم نی صکی اللد علیہ وسلم پر ججرت سے بیھھ کت پیلے کہ متتلمہ ہی میں نازل ہو چکا تھا
ین اس وت آپ اس پرعمل خی ںکر نے تھے ۔کی کہ مہ می ںکوکی اتا جی عحباوت اداکر نا کن نہ تھا۔
اس لیے آ سپ نے ان لوگو ںکو جآ سے سے ار تکمر کے رین مور ہچ کے تھے ہہ ع ملک بھی اہ
دہاژ جمعہ قائ مکرریں۔ چناغچہ ابق ائی ہاج بن کے سردار ححضرت مصحب بن گر نے 12 1 ومیوں کے سماتھ
دن میں بلاجحعہ بڑھا( طبر انی دار فی )۔ حضر تحت بن مالک اود ایکنا سی رب نکی دردایت بر سےکہ لال
سے گی پلیہ مین کے انصارنے لوخد( شحل اس سےکہ حضو کا عم ا نکوپپچا ہو ا) آ یں یں مہ ٹکیا
تھاکہ نے یس ایک دن م لک اجتما گی عحباد تکس گے اس غ رخ کے بے اُنہوں نے پیہودبیوں کے کت
اور عییائٌیوں کے الا رکو یھو کر جع ہکادن اتا بکیا ہاور پہلا بجع رت اش جن ژرازہ نے تانیاضہ
کے علاقہ میس پپڑھا ٹس میس 40 آد بی ش ریک ہو ۓ (ممد اص(]ء ابو داد امن ماج ء امن جضبالنء عبد بن بد
عبر ال رزاقی, ”لئ ی)۔ اس سے معلوم ہوا سے اسلائی ذوقی خو وس وقت بہ مطال ہک رہ تھاکمہ الما ایک دن
ہوناچایے خجس میں زیاددے زیادہ مسلمان مع ہ وھکر اچتم گی عباد تک می ء اور یہ بھی اسلا ھی ذوق پیک اض
کہ دددن پیش اور انذارے الک ہو جاک ممسلمائو ںکاشیعار طلت ببددونصار گی کے شعار لت سے الگ
رہے۔ بہ صحاب ہک ہا مکی اسلائی ذ ہنی تکا الیک خی ب کرشم ےک بسااو جات ایک عم نے سے پیل بی ان
کا ذو یکہہ د یا تھاکہ اسسلا مکی رو فلال چ زکا تقاض اکر ردی ے۔
-.......۔.۔۔۔ و سول اید صلی الیل علیہ وسللم نے رت کے بد ج ھ ایی نکام بے ان یں سے ایک ویمت
کی امت بھی تھی کہ موقمہ سے بجر کر کے آپ چرکے روز تاپ چاردلن دہاں قیام مایا پا نچ یں
روز یھت کے دن وہاں سے می ےکی رف دوانہ ہو ء راستہ میں بی سا یم جن وف کے مظام پر ج ےہ
مماز یت عکاودت اگیاء سی کیہ آپ نے پہلا بجع ادافرمایا(اینہشام)۔
2.200 و ماز کے کی رسول اللہ صی الشد علیہ وسعلم نے زوال کے بح کا وقت مقر فرمایا تہ بجی
وی وت جوفظہ کی نما زکاوت ہے اثرت سے پیل حضرت مضوٹ بن ہکوج تمررىی عم آپ نے کیا
تھااس میں آ کا ارشادے تھاکہ : فاذامال الٹنھارعن شطہعندالزدال من یوم الجمعة فتنق وا ا ی اللہ
تعال بر کعتین(دارشأنی)_ * جب بحعہ کے روز دن نصف النہارے ڈعمل جا و دو رکعت نماز کے
ذرییہ سے الد کے حضور قرب حاص کرو“ بی عم نجثرت کے بعد آپ نے تو بھی دی اور ملا بھی اسی
وفت پر آپ ےکی راز ہڈعاتے رے۔ یک سر حضرت ملین الو رع حضررت چابر ,ا کپ اللّدء
حضرت رہن لَامء حضرت سبلٗ بن سوہ ہر رت عبد ارڈ بن مسوم حضرت حا بن اص ر اور نخرت
بلالی سے اس مصمو نکی روایا کب حریث میس ممقول ہو یکو قکہ مور رمع نماززوال کے بعد ادائرمایا
کرت مے(منر اص بناریء مل ء ابو داقدہ تسا کی تج ری )۔
۳0 -. بی ام مھ آپ کے معل سے جات س ےک اس دوز آپ ظہ کی نماز کے ہاۓ بجع کی
ماز ڑا ت ہ١س نمازکی صرف دو رعتتیں ہہوئی خی ء اور اس سے پیل آپ خطبہ ار شاو فرماتے تے۔
7[ ماز اور عام دنو ں کی مرا ز رم تھا نخرت عمرر ضی اللہ تی عنہ ففرماتے ہیں : صلا
البسافی رکعتان؛ وصلوٰۃ الفجر رکعتان: و صلوٰة الجبمعة رکعتان؛ تہام غیرقصِ عایٰ لسان ئبیکم
صل اللہ علی دسلم دانسا قصرت الجمعة لاجل الخطیة(اکام الش رن لصا )۔ ” تمارے خی صلی
الد علیہ وص مکی زبان مبارک سے لے ہو ۓ تع مکی ڑوے مساف ری نمازدورکحت ے تچ کی راز ذو ر اعت
سے اور یقت ےکی نماز دو رکعت ے۔ یہ ری نمازے فص رکییں ہے اور یھ ھکو خطبہکی خاطربی مض رک ایا
0-ب-+ ء۶ یہاں ذکر سے اس سے مراددو اع ے جو خطبہ سے پپیلے دکی جاٹی سے ہت کہ
وواذان جو خطہ ےکانی دیر پپیلہ لوگو لکو یہ اطلارع دینے لیے دی جا ےکہ ہت ےکاوت ش رو ہو جچاے۔
عدیٹ یس نضرت ساب بن بیز کی ردایت ےکک رسول الد صلی الد علیہ و سصلم کے زمانے یں صرف
ایک می اذان ہوثی تھے ء اور ودامام کے مض رر یھ کے بعد دبی جائی تی ۔حظرت الوب اور حضرت عرڑ سے
زان میس بھی بی مل ہو جارہا پل رخضرت عخثانٰ کے دور یں جب آ بادی بڑح گئی ا نہوں نے پلیہ ایک
اور اذانع داوالی ش رو عغکر دی جو مرینے کے ہااد یس ان کے کان تورایر دی عالی نار ااوواؤ:
نمی طرایٰ)۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ نمبر:15 ھ
اس عم یس ذکر سے مراد خطبہ سے ؛کیوکمہ اذان کے بعد پہلا مل جو سی صلی الیل علیہ و سل مر تے تے وہ
ماز یں بللہ خعلبہ تھاء اور نماز آپ پییشہ خلے کے بعد ادافرماتے تھے حظرت الدہ ری کی ردایت ےکلہ
رسول الہ صلی الشد علیہ و سم نے فرمایا شک کے روز ملامکمہ ہ ہآنے وا ل ےا نام ا سکی آ م کی تر جیب کے ساتھ
لیے جات ہیں پیم ر: اذا سج الامامر حضرت الس کڈ یستمعون ال کید جب انام خطبہ نے کے لیے
اتا سے نو وہ نام لن بن دکر دتنے ہیں اور ذکر ( می خعلبہ) تن مم سلک جات ہیں “(مسند اج ہ بخاریء مم
ابو داد تریذرگیء نساٹی)۔ اس حریث سے بھی معلوم ہو اکہ ذکر سے مرادخعلبہ ہے خحود ق رآ نک بیان بھی
یکی طرف اشار ہک رہاہے۔ پیل فرابا:َا کالما گر ادل۔ ” خداکے ذک کی طرف دوڑو“۔ پھر
آگے تچ لک فرابا: اذا فی الصدڈ فَانْتَغرذ ای الازضں۔” جب نمازپوری ہو جاےتوزمن
یس ہیل جا“ اس سے معلوم ہو اکہ تھے کے روز ح لکی تعیب پہ ےک سے ذکر الد اور گچھر نماز_
مفسری ن کا بھی اس پر الفاقی ےکہ ذکر سے راد مات خطبہ سے پا پچ رخطبہ اور نما دوٹوں_
نے کے لیے“ ذکر اڈ“ کاانفظط استعا لکر ناخودبہ مع رتا ےکہ اس میس دہ مضائن ہونے چا نھڑیں جو الد
گی یارے مناسبت رک ہوں۔ مآ ایل کی جھ وشتاہ اس کے ر سو پر ڈرو صلوہ اس کے احکام او رس 1
ش ریت کے مطابقی عح لکی معلیم لقن اس ے ڈرنے وانلے کیک بندو ںکی تم ریف و روہ ای بن بر
زین ےکشاف می کا ےک خلبہ می ناکم ھمرانو کی مرح دشا یا نکا نام لینا اوران کے لیے دعا
کر ناء کر ایڈدےکوٹی ڈو رکی مناسبت بھی بین رکتتا۔ بللہ یہ فو کر الشیطاان ے۔
”الد کے ذک رکی طرف دوڑو“ کا مطلب بہ ٹیس ےک ہ جھاگتے ہوۓے آئء بللمہ ِ کا مطلب ہہ ےکلہ
جلدی سے جلدی وہاں یی ےک یکو کرو أُردو زبان مشین بھی بھم دوڑ دعھو پک ناء چھاگ دوڑ کر ناء
سرگر مکوشش کے مصمی میس ہو لے ہیںء نہکمہ بھاگنے کے معن میں ء سی ط رح عرلی میں بھی سی کے می
بھاگے بی کے میں ہیں۔ ق رن میں اکر منظامات پر سج یکا لف طکو شش اور در وجہد کے مصعمی بی استمال ہوا
ے۔ :لین لِلَانمان الا ما مع ومن اَرَادَالاخِرَةوَ می لَهَامَعْيَھَا_ فَلَمَتَلمَمَعَةُ
الصّفی اذا تو گی سی فی الآزض لِيفيد ون ھھا۔ مس رین نے بھی بالاناقی ا کو اہتمام ے
من می لیا ہ ان کے خز ویک مسع مہ س ےکآ دی اذا نکی آواز نکر فور مس می ہکی تر می ںالک
جاے۔ اور معاملمہ صرف اتی کیل سے عد یت ٹیس چھا ککر نماز کے ےآ ےکی صاف مالعت وارد
ہوئی ہے حظرت الہ ری کی ردایت سے کہ رسول اویلد صی الد علیہ وسعلم نے فرمایل۔ ” جب نما زہکھٹری ہو
ا سکی طرف شون وت مار کے سنہ پچ لک رآ ہوا گے ہو ہے نہ 31ء پا رچلتٹی نما بھی ٹل جانے امس ٹیس
شال ہو جا اور جشفی کیھٹ جاۓ أسے بعد بیس و راک رلو“۔(صواں ست)۔ حضرت ابو قأدہانصا رک فرہاتے
ہیں ء ایک مرح ہم حور کے مکیہ نماز بڑھ ر سے ےک کیک لوگوں کے پھاگ بھا فک مل کی آواز
آئی. مز ش نے کے بعد حور نے ُن لوگوں سے پ پچھا ہکیسی آواز تی ؟ ان لوگوں نے ع رخ سلکیا۔ بم
مماز بش شائل ہد نے کے لیے چھا کفک ہر سے تے۔ فرمایا” الیمان ہکی اکر دہ نماز کے لیے جب بھی ویو رے
کون کے سا آہے۔ چشفی مل جا ا سکو امام کے ساتجھ پڑھ لوہ جشفی کیھوٹ جاۓ دو بعد ٹیس پور یکر و“
(ہناری, ملم)
خ یروفروخت پھوڑرو“ کامطلب صصرف خزید وفروخت می بچھوڑنا یں ے بللہ نماز کے ھئ720۵
کر اور اجطمام کے سواہر دوس ری مصروفیت چھوڑدیناے ء ئک ذکر اص طور پر صعرف اس لک ایا ےکلہ
بت کے روز توارت خوب جچکتی تھیء ٗس پا کی ہستیوں کے لوگ مس کر ایک تہ مجح ہو جات حھے ء
تا گی ابنامال نے نےکر وہاں یچ جاتے تے۔ لوگ بھی ابیقی ضفرذر کک جن تی ےم لف جاک
تھے لین ہماند تکا عم صرف ن تک محردد ٹیس ہے بللہ دوسرے ترام مال بھی اس کے تحت آ
جاتے ہیں اور چ کہ ال تھا لی نے صاف صاف ان سے مع فرماد یا اس لیے فقہاء اسلا مکا اس پھ انفاقی
ےک میق ےکی اذان کے بعد اوہ رش مکایاروبار ھ ام ے۔
جم آطتی طور پر نمازجمعہ کے فرخ ہونے پر لالم کر اہے۔ الڈل فو اڈان نے ہیں اس کے لیے دوڑنے
کی کید ہیا خودأ سکی دی ہے۔ پچھ بجی علال ہکا سکی خاط رع ام ہو جانایہ ظاہ رک تا ےک دہ
فرش ٤ے۔ عزید یرس ظظہرکی فذر ہمازکا یھ کے روز ساقط ہو جانا اور نماز جح ہکا ا سکی مہ نے ینا بھی
ںکی فرضی تکا ص رت شوت ہے ۔کی لہ ایک فرض أسی وقت ساقط ہو جا سے ججسلہ ا کی میک لیے والا
فر اس سے زیادو اہم ہ۔ اس کی تا ہجکشرت اعادی کرکی ہیں ء جن میں رسول اوقد صلی این علیہ و سلم
نے بی ےکی سخت تر بین کم کی سے اور ا سے صاف اللفاظ یل فرص قراردیاے۔ حظطرت عبد الیڈ رین مسعود
گیاروایت ےک حضمو نے ف مایا“ می رای چاپتاسے ک کسی اور تح سکو اتی کہ نماز ڑھانے کے لیے کھٹرا
کر دوں اور اکر أن لوگوں کےگھر جلادوں جو جتھ کی نماز پڑ نے کے لے میں آتے “۔.(مصند اھر
باری)حضرت ابو ہیر اور خرت عبد الد بن ع با اور حضرت عبد الد بن عم رسکیتے ہی کہ بھم نے مھ
کے خطبہ میں جضمو کو یہ فرماتے سناس :” لوگو لکو چاہیےکہ جحعہ تچھوڑنے سے باز آ جائیسء ورنہ ایند ان
کے دلوں پر مہ لگادے گا اور وہ ا٘ل ہوکر رہ پکئیں گے “۔ (مند اصدہ مسعلء مکی ) حضرت الو الع
شر ی, و رت جابرر بن عبد ایند اور نخرت عبد الل بن الی اذث کی رودایات میس حور کے جو ار شادات
ممقول ہوے ہیں ان سے معلوم ہوجا ےکر ج تھی بی ضرورت اور جائز تر کے بقیرہ مل بے
پروائ یکی نار سلسل تنج بچھوڑدےء الد اس کے دگی زیم لگاد تا سے “۔ بکمہ الیک روایت میس ذالفاظ
یہ ہی ںکمہ ” الد اس کے و لیکو منا آنکارل بنادیاے“ ( مند اج جالاداادہ سالیء تر م گیا ء این ماج دا رفیء
اکم ء این ضبانءبڈازء برای نی اکر حضرت جاب رن عبد الل کے ہہ ںکہ حضورنے فرمایا قرج سے نے
کر قیامتکک جم ت لوگوں پر فرضق ہے۔ جو ٹس سے ایک معمول چچ زجج کر یا سکا حم نما نکر أ سے
نڑینۓ نا ا لکاحالی رت کر :نات برک دے قو ب معن رکح ہن نکی نغماز نما زین ءاسن
کک کو یں کن اک یں ان فا رن نین أا ک کوک بی ھی کی ج بک فک دوہ شہ
کے لک لو رین ار اے معاف فرمانے والا سے “۔ (این ماج ءبزار) ای ے ےت ین
روایت طب رای نے اوسط یں ابین عر سے فف لک ہے۔ علادہبرمیںجکثرت روایات ہیں جن مس حضور نے
بھی ےکو پالفاطے صرح رض اور بن واجب قرار دیاے۔ حضرت عبد ال بن عمرڈ بن عا کی روایت ےکلہ
تم ون ق۴ مات بعہ ہراس تفم یر فرغ مے ج وأ سکی اذان ۓ “ 0 7
عبد الد اور ابو سعید خد رک کت بہی کہ نے خی میں فرمایا۔ ” جانا وکہ ایشدنے تم پر نماز جمعہ فرح کی
سے “۔( فی )المبتہ آپ نے عورتء بے خلامء مر لی اور ماف رکو اس فرضیت سے سی قرار دیاے۔
حطرت حفصی کی روایت ےک جضمونے فرمایا۔ ” جحعہ کے لیے لکلناہر با لن پر واجب سے“ (نسالی)۔
رت طارق بن شہا بک ردایت میں آ پکااد شادیہ سےکہ ” جحعہ ہہ رمصسلمائن پر جماععت کے سا تھ پڑ عنا
راہ ے۔ کایۓے فلامء عورتء چے ء اور م ریئش کے“ (اہو دائودء حام) ضرت این غبرال کی
ردایت میس آپ کے الفاظ ہہ ہیں:” ۶ تن اللہ اور رو رت پر ایمان رکتاہوء اس پر بحع ٹر ٤ے۔ الا
کہ عورت ہو یا مسمافر ہو یاغلام ہہ یام ریش ہو“ داز فلنیء نیقی ) ق رن دی فک انی مر بجخان تک
وجہ سے بح ہکی فرضیت پر اوری اش تکااعاعے۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ تمبر:16 ھ
کا مطلب یہ غھیں ہ ےکہ ہت کی نماز کے بعد زین میس کیئیل جانا اور خلا رز قکی دوڑ دمھوپ مس کیک
جاناضرو ری ڈدے۔ بللمہ یہ ار شاداجازت کے مع یں ے۔ چوکلہ ہی ھکی اذان ش کر س بکاروبارتچھوڑد ہی
کا عم دیاگیا تھا اس لیے فرما ماگ یاکہ نماز تح ہو جانے کے بعد سکبیں اجازت ےک مضفنش ہو جا اور اپنے جو
کیاروبار تج یکر نا چاہ وکروہ ىہ البای سے تی حالت اترام میں ششک کی عمانحع تکرنے کے بعد فرباياو اذا
ے >22, مو صمودہ 2 وو ٠. ۲
عَللمٌ فاضطادذا (الماءرہ-2) جب ات ا مکھول پچکو تو شیا رکرو“ اس کا مطلب یہ خیں ےکلہ
ات ا مکھو لے کے بعد ضرور کا کر وہ بلکلہ اس سے مرادیہ ہےکہ اس کے بعد ششک پ کو کیاکی بائی کیل
رہتی۔ اہو تو شیا رکر کت ہو۔ یا نا سورہ نساء بیس ایک سے زان نا ںک اجانت فَانْیَخُوا مَا طابَ
کن کے الفاظ مس دک اگئی ے۔ یہاں اگ چ فَانْکھُوا یف امرےء ری نے بھی ای سکو جم کے
مع میس نیس لیاے۔ اس سے بی اصصوٹی متلہ لا ےکہ صیضہ امر پمیشہ وجوب بی کے معن یس یں ہو
بللہ بھی یہ اجازت اور بھی اسخباب کے معن میس بھی ہوم ہے۔ یہ بات تقرائن سے معلوم ہو تی ہ ےک ہکہاں
یہ عم کے معن یس ہے او رکہاں احجازت کے مع ٹیل او رکہاں اس سے راد یہ ہو کی ےکہ ال کو ای اکنا
پیند سے لان یہ مراد نہیں ہو یکہ يہ نل فرش وواجب ہے۔ خودامی فھقرے کے بعد متا دوسرے ہی
نتترے مس ارشاد ہواے وَاگُڑو١ ادلة كَيْترا ” اش دک و کثرت س یا دکر وگ بیہاں ھی صیقہ امم
موجودے :گر ظاہر ےک یہ اسختیاب یا نی یدب کے خرن
اس مقام پر ہہ بات بھی قائل ذکمر ےک اکچ ق رن میس مبددلیوں کے حبت اور عیساتیوں کے اتا ری
طرح یھ ےکوعام تطی لککاون قرا نیں دیاکیاے لین ان امرس ےکوگی تشخ بھی اوکا نمی سکر سا کہ مہ
یف اسی طرب مسلمائو ں کا شعار لت سے جس ط رح ہفتہ اور اتذار ببددلیوں اور عیسائیوں کے شعار لت
ہیں۔ اور اگ ہفتنہ می لکوئی یک ون عام یل کے لیے مقمر کر نا یک حودکی ضرورت ہو شس طر یہو دی
اس کے لیے فطری طور پر من کو اور عییماٹی اذا رکو مج کرت ہیں اسی ط رح مسلمان (اگر ا سکی مطرت
بس یٹھھ اسلا ی جس موجود ہو)لاز] اس غرضش کے لیے بتھع ب یکو متخ بکرے گاء بللہ میسائتیوں نے لو
دوسرے ابی ملگوں پر بھی اپنے اقذا رو مسل اکر نے یں متائل ن کیا جہاں عیسائی آبادکی نے بیس نک کے
برای بھی نہ شی بیپودیوں نے جب مسلین میں اتی اس ائیلی ریاست تا مکی فو الین کام جو نہوں نکیا وہ
بی ٹھا کہ انار کے ہا بن کو چھٹی میاون مقر رکیز شی ل تیم کے ہندوستان ٹیس پر طانو یی ہنداور لمران
ریاسنتوں کے در میان ہمایاں فرقی بہ نظ رآ ت اک ملک کے ایک صے میں ا وا ری 2 ور
دوسرے جے میں یھ ھکی۔ الب جہاں مسلمانوں کے اندر اسسلا می یس موجود نیس ہوکی وہاں دہ اپتنے ہاتھ
بس اقترا ر نے کے بح بھی انار ب یکو نے سے لکاۓ رت ہیں جج اک ہم پاکستان میس دکھ ر ہے مہیں۔ بلمہ
اس سے زیادہجب بے تی طاری ہوثی ے تو یھ ےکی پچھٹی مو خکر کے اقوا رکی ھی را کی جاقی ےء جیما
کہ مھمٹل یکمالی نے تی می سکیا۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ نمبر:17 ھ
]ھی ای ےکارو ہار بم سل کک بھی اک ملعال تس و
(فش رس کے لے ملاحظہ ہو تیم القرآن, جلد ارم تق سور اطزاب حاشیہ 63)۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ نمبر:18 ھ
ق رن می ببس مد مقامات پر ایک ہدابیت ما الیک نشیجحت الیک عم دۓ ے بد لَعَلَۂ تُفُْٰؤنَ
(شائ رک تم فلا باجا2)ادر لحم تشون (شایدکہ تم پررت مکیاجاۓ )کے الفاط ارشاد فرماے
گے ہیں۔ اس طرح کے موائحع پر شای ہکا لفظ اتا لکرن کا مطلب بہ نیس ہوم اکہ الد تعال یکو معاذ اللہ
کو کی شک لاح ے ء بل یہ دراصل شاانہ انلد از بیان ہے۔ یہ ایمائی سے جی ےکوکی مہریان آ ا انت ملازم سے
کی کہ تم فلاں خددمت امام دوہ شاب کہ ہیں تر تی ٹل جائے۔ انس میس ایک طف وعدہ او شیرہ ہو اڑے
ج سی امیرییں لام ول اکر بڑے شوق کے ساتھ وہ خدممت امام د ہے ۔ سی باد شا ہکی زان س ےکی
لازم کے لیے ىہ فقروپحل جائۓ ذس ک ےگ رخ خی کے شھاد یانے نی جات ہیں۔
یہاں چوکلہ بجع کے ایام تح ہو گئ ہیںء اس لیے مناسب معلوم ہوا ےکلہ راہب ادبعہ ٹیس ق رآنء
حریث, آخار صحابہء اور اسلام کے اصمول عامہ سے جو احکام جعہ رحب سے گے ہہیں ا کا غلزاصہ دے دہ
تاے۔
تہ کے نزدیک یت کاوقت دی ے جو ظ رکاوفت سے نہ اس سے پسلے جحعہ ہو لے ء نہ اس کے بعد۔
کی حر مت مکی اذان ہی سے ش رو ہو جائی ے ہن ہک اس دوس ری فان سے جو امام کے مب پر پیٹھنے کے
بعد دکی حائی سے کیوکہ ق رآن مں ٥شؾ لق وق من پّذ یر اعت کے الفاظط مظان ارشادہوے
ژیں۔ انس لیے زوال کے بعد جب یت ےکا وفت شر و ہو جاۓ أس وفت جو اذالن بھی نماز جحعہ کے لے دی
جائۓ ءلوگو ںکو سے خ نکر خریز و فروشت بھوزد تی جاہیے۔ لین اگ کسی تن نے نس دقت خریدو
روغ کر ہو فو وہ بی ڈاسد ما مہ ہو جات ےگا ء مہ بہ حرف ای کگناوہوگا۔ جع ہ ربق میں نی بل
صرف مصررجائع میں ہو سنا ء اور مع جا عکی مت رتھریف کہ دوش نجس میس بازار ہوںء قیا مم نکا
انام موجودہوء اور آبادگی اتیج ھکمہ اگ اس ںکی نڑھی سے بڑی مسر میں بھی نماز ججعہ کے ملف سب لوک
جع ہو جاکھیں تس میس سانہ یں جو لوگ شر کرت ہوں آن پر بمعہ اس صورت میں شہ ر اکر
پڑھناف رخ سے بجلہ ا نکک اذا نکی آواز یی ہوء یادہزیادہ نے زیادہ شر سے 6 نیل کے فاسلے پر ہوں۔
زماز کے لیے ضروری نی ںکہ وہ مسر بی میس ہو۔ و ہکھے میبران می ہو لک سے اور ای میراان یں
بھی ہو سلتی سے جو ہر کے باہرہ وگ ا سک اک حصہ ار ہو جا ہو نماز جمعہ صرف اس لہ ہو سکتی سے جہاں
7ے ی19 ک9 ان عام ہو ۔گی بن مہہ جہاں ہر ای کک ون ےکی اجازت نہ ہو ءخو ا کت
بی آدی گن ہو جائیںء جمعہ جج نمی ہو سکنا۔ حمت جمعہ کے لے ضروری ےک جماعت می سک ا زم (بقول
ابو عطیف) ایام کے سوا مین آدھیءپا(بقول ابو پیوس فک و )امام سیت دو آدی ایی مموجودہوں من پر بحعہ
فرخس ے۔ مجن عفرا تکی بنا یر ایک تفم سے بحعہ سماقط ہو جا ا سے دو یہ ہیں : آٹی عالمت سخ ری خی یا
ایا جار ہوک چ۲ لکرعہ ٦ سناہوء یا دونوں ٹاگوں ے مور ب۸ یا اندھا ہو (مکر امام ابو اوس ف اور امام مم
کے خزدیک اند ھے پر سے صرف اس وفت جت ھکی فرضیت ساقطط ہوکی سے جج وہک گی ایا آد ھی نہ یا تاہو جھ
اسے چچلاکہ نے جاۓ ) اتی ظالم سے ا کو جائن اور آبر وکا یاناقائل بر داشت :لی صا نکا خطرہ ہوء یا
مخت بارش اورک پاٹی ہد ءی دی قی کی حاات ٹیل ہو۔ قیریوں اور معفروروں کے لیے بی با تکھرود و ےکلہ
وو یھ کے روز ظہ رک نماز جماعت کے ساتجھ یڑ ھییں۔ مجن لوگو ںکا جحعہ جچھو گیا ہو ان کے لیے بھی ظہر
کی نماز اعت سے بڑہن اکر وو ے۔ خطلبہ ححمت مع ہکی شر ائا بیس سے ایک ش رط سے ؛کی وکلہ نی صلی الد
علیہ وصلرنے مبھی بصت کی نماز خطے کے اغی نیس ڑم ہے اوردولا زا نماز سے پیل ہونا جا بے ء اور دوخ
ہونے چائئیں۔ خطے کے لیے جب امام من رکی طرف جا اس وقت سے اغقام خطیہکک ہ رم مکی بات
جرف ممنوں ہے٤ اور نماز بھی اس ونت نہیں پڑسعنی چاہیے خوادامام کی آواز انس متقام مک پک ہو مانہ شی
و جہا ںکوئی فص ٹا ہو (ہ راہ لق یرۃ ایام لق ران لا عس, الفقتہ گل الزاہب الا رادےء حر ؟
القاری)-
شافعبیہ کے نزدیک ج ےکا وت وبی ٤ے جو ظہ رکاے۔ ئُ کی مت اور سج یکا وجوب أئس وقت سے شروں
ہوا سے جب دوس ری اذاان ہو (مجنی دہ اذان جھ امام کے منبر پر ٹین کے بعد دی جائی سے )۔ ما جم اگ کوٹی
خفس اس وفت ث ککرے دح یں ہوئی۔ ججعہ ہراس میتی میں ہو سنا سے جس کے تل باشیروں میں
0 ای آدبی موجودہوں مجن پر نماز جھمہ فرش ے۔ تی ے پاہر کے ون لوگوں پر جھعے کے لے حاضر
جونالازم سے جج ن کک اذا نکی آواز مغ سی ہو۔ جمعہ لاز تی کے عدودمیش ہونا چا ےےگریہ ضروری نیں
ھی ٭٭
کی دو مس بی میں پڑھاجاے۔ جو لوگ سح ایس تٹھوں کے اندر رت ول ان پر بحعہ واجب کیل ے۔
ححت جحعہ کے لیے ضروری ےک جماعت میس امام سحبیب تم ا کم 40 ایی آ دی شیک ہوں مجن پر بجع
فر٤ہے۔ جن عرا تک ہنا کسی نف سے یق ھکار ساقطاہو جا تا سے دو ىہ ہیں :سف رکی حالت ٹیل ہوء
ان رت مقام پہ ار دن یا انس س ےکم یا مک ارادو رکتا ہو اش رم لہ سفر جائز نو حی ت کا ہو۔ السا لوڑھایا
مر یش ہ وکہ سواری پر بھی ھت کے لیے نہ جا سکنا ہو اندھاہد او کوک السا آدٹی نہ پا مہو جو اسے نماز کے
لیے نے جائے۔ جان یامال یا آبر وکاخوف لاح ہو۔ قی دکی حالت میس ہوء بش ر لہ ا سک قید اس کے اپنے
سی تصور وجہ سے نہ ہو۔ نماز سے پیل دوج ہونے چا یں خی کے دوران میں نخاموشش رہنا نون
سے گر بل تکرنا رام نیس ہے۔ جو تح ارام سے تن تقریب مھا ہہ خطہ من سکاہو اس کے لیے بولزا
گھرودےء لن دو سلا مکا جو اب دے سنا ہے ء اور ر سول الد صلی الد علیہ و ماک سن کر پاواز ہر درود
بپڑھ سکتا سے( مفمی اخاج۔ الفقہ علی ار اہب الار یع )۔
الکبیہ کے نزدریک بج ےکاوقت زوال سے شج رو ہوک مغرب سے ات پل هکتک ےکک سو رج خحروب ہو نے
سے پھلے پیل خطبہ اور نمازضتم ہو جائۓے ۔ نکی ح مت اور سج یکادجوب دو رکی اذان سے ش رو ہو ماے۔
اس کے بعد اکر بج وق ہو وو ناسرے اور رح 6پم صرف أن بستیوں میں ہو سکتا سے جن کے
ج. رگھر بن اکر رت ہوںء اور اچم ری میں منفل نہ ہدوت ہہوںء اور أ نکی
ت أسی تی می رام جہوٹی ہولء اور الپتی تد ا دکی بنا بر دہ اپقی تفاظ تک سکت ہوں۔ عار شی تام
ہسوسو سی ہی ات یں کیا جا سنا ج س لمت
بش بمعہ نات مکیا جات ہو اس سے ین مل کے فا کک ربے وانے لوگوں پر جع میں حاضر ہونا فرش
ے۔ نمازبعہ صرف السی مسج میں ہوستق سے ج ستی کے اندر یاس ہہ ۓ نل“ ششک زی ئل
کے عام پاشنعدوں کےگھروں ےکم تر در ےکی نہ ہو۔ لت ماکییوں نے یہ ش رط بھی لگا کی ےکلہ مجر
متقف موی چا ہے او راس مشچ وق نما زکا بھی اہنمام ہونا جا بے یکن الکلیہکارا نع ملک یہ ےک کی
مد یس صححت ججعہ کے لیے ا کا ضف ہو ناش رط یں ے اور ابی محر میس بھی جمعہ ہو سلما سے جھ
تصرف نمازججعہ کے لے بنا یک ہو اور جن وق نما زکا اس میس امام نہ ہو۔ ج ےکی نماز ہج ہدنے کے بے
جراعت میں ایام کے سو اکم ا زم 12 اٰیے آدمیوں کا موجود ہونا ضروری سے مجن پر جحعہ فرش ہو مجن
عزرا کی ہنا کسی فیس پر سے جھ ےکافرض ساقط ہو جا ناس دو یہ ہیں :سن رکی حالت یل ہو یا حمالت سر
می عجلہ جار دن ےکم قیا مکاارادە رکتناہو۔ یسام لیٹس ہ کہ مسر آنا اس کے لے دشوار ہو۔ ا سی ماں یا
پ یا وکیا یہ بیار ہدءیادہکسی اپےے ای مر ین کی تاد دارئ یکر رباہ وج ںکااو کوک جار دا شہ ہوہ یا اس
و يِ +ھ>
کاکو کی ق رج رشننہ دار مخت بباری یل متنلا ہو یا مرنے کے ریب ہو۔ اس کے اے ما لکوج سک نتصان
قابل پر داشت نہ ہو خط رو لاف ہوء یا سے ایی حجائن یا آبر وکا خطرہ ہو بیاددمار یا قیر کے خوف سے چا ہو اہو
بش رطیلہ وواس معاملہ میں مظلوم ہو خت بارش اور کچ پائی اق گی یا سردبی مسحی کک میئیے یس ماع
ہو۔ دو خل نماز سے پیل لازم ہیں من یک اگر ما ز کے بعد خطبہ ہو و نما زکا احعادہ ضرورییٰے۔ اور ہہ جے
لاز بد کے اندر ہونے یں خابہ کے لیے جب از می رکی طرف بٹ سے اس وت سے نل پڑہناعرام
ہے اور جب خطبہ ش رو ہو تو با تکر نا بھی ھ ام سے ء جوا آ دی خل کی آواز یہ من رپاہو. مان اگ رخطیب
اپنے خظے میس اڑیی لفو بای سکرے جو نام خلبہ سے خارج ہول ہاسنی)اری شی سک وگالیاں دے جو گال یکا
سفن نہ ہوہ کسی ری شف سکی تع رلئیں شرو حکر دوے ج سکی تحریف چائتزنہ ہوہ پاخطہ سے خر متحلق
کوئی زیڈ سے گے ء فو وگو ںکواس پر اتا خرن ےکا عم ہے۔ نیز خلبہ می بادشاووفت کے لیے دواتھر وہ
سے الا ب کہ خی کو ایق جال کا خر ہو خطیب لاز]ودی شس ہونا جابے جو نماز پڑھائے۔ اگر خطیب
من ای اور نے ماز بڑھائی ہو ووہ پال ہو گی (حاشیہ ال رس وق لی [-2 آے_ احام لق من ان
ری الفقہ ی ال اہب الار بت م۔
خذاہلہ کے نزدریک بج کی نما زکاوفقت ػ کو عورع کے اغقر یک نجزہ مبلند ہونے کے بعد سے عص رکاوقت
شر وع ہو ےکک ے۔ لیکن ذزدال سے پیل جحعہ صرف جائڑے+ اور زوال کے بعد واجب اور افضل۔ ت کی
مت اور تگی کے وجو بکاوفقت دو ری اذاان سے شش رو ہوا ہے اس کے بعر جو شخ ہو وہ ہرے سے
مضعق ہی نیس ہولی۔جحعہ صرف أس بلہ ہو ستاے جہاں 40 ایی آومی جن پر جع فرض ہو تخل طور
پرگھمروں میں (ن ہک ہخنیموں میں) ںی زنۓ و کی ما نت لیت ہے نان ری نے
لیے تی سےگھروں اور مھلوں سے پاب مل ما ضرق ہونے ےکوی فرقی کی یڑ جاء ان سب کے مجموصہ
کانام ایک ہو نذوہ یک ہی سی ہے خواہ اس کے مگکڑے اىیک دوسرے سے ممیلوں کے فاسلے پر وائ ہوں۔
ای تی سے جو لوک تین مل کے اندر رت وں ان پر یھ کے لیے حاض ہو ناف رخ ہے۔ بماععت میں
امام یت 40 آومیو ںکی ش مرک ضر ددکیٰے۔ نماز کے لیے ضر ورگی کی سے کروہمسحر بی میں ہو کے
مدان میں بھی ہو سکتی ہے جن عفرا کی چا کسی فیس سے جھ ےکا رض ساقط ہو جاتا سے وہ یہ ہیں :
0 ا ٹیش چچار ون یا اس ےکم قیا مک ارادہ رکتا ہو۔ الیمام یج ہ کہ سو ادیی پر آنا تھی
اس کے لے مششکل ہو اندھا ہہ الا کہ و دراستہ نو لکاچہپایھکیا ہو کسی دوسرے تخس کے سبارے آنا
الد ھ کے لیے واجب نی ہے۔ سخت سرد اخ گر می باسخت پاش اور بیچڑ مکی کہ یی یس ماع
ہو کسی ظا مکی قلم سے نے کے لے چیا ہداہو۔ ان یا آبر وکا خطرہ یا ایی مالی نقصا کا خوف ہوجو اقائل
برداشت نہ ہو۔ نماز سے پل دوخ ہونے چائیں_ خ لے کے دوران میس اس متس کے لیے بولا رام سے
جو خیب ے اتا قریب ہوک ہا سکی آواز من سنا ہو۔ البند دو رکا آو بیج س کک خطی بکی آواز نہ سپ
ہوہ با کر سکتا ہے۔ خطیب خو اوعاول ہو یا یر عادلء لوگو ںکو جیے کے دوران بیس چپ ر ہناجیا بے ا
بعہ کے روز عید ہو جاۓے فو جھ لوگ عید بڑھ گے ہول ان پر سے بح ہکا فرح ساقط ہے۔ اس منے میں
تنابل ہکا میلک ائمہ خلاظہ کے ملک سے ملف ہے (غابیہ مکی الفقہ می ال اہب الاربع)۔
ںام ری تمام فتہاءکااتقاقی ےک جس شف پر جعہ فرش نہیں ہے و ہاگ ما بمعہ میں ش رکیک ہو جائے
فا کی نماز ہج ہے اور اس کے لیے پچ رنب رڈ ناف رض نیس رجتا۔
سورڈ الجمعۂ حاشیہ نمبر:19 ھ
یہ سے ودوواقعہ جح سک وجہ سے اوپ کی آیات ٹیل بحعہ کے احکام ار شاد فرماۓ گے ہیں۔ ا سکا تہ جو کن
حدیثف میں معخرت جابر بن عبد این ظرت عبد الد بن ععبا اہ رت ابو ہریرہ کرت ال مالک اور
رات شنن تصرریء ابا زیارہ قاددہ اور منقائل بن مان سے منقول ہو ا مہ ےک مد بین ہہ شی شظام
سے ایک تتبارمی تقافلہ عین نماز بح کے وف ت آیا اور اس نے ڈعول جائے ھانے رو سے ما کہ تی کے
لوگو یکو سک آٴ مدکی اطلا ہو جائۓے۔ رسول ا صکی الد علیہ و ٥م اس وفت خطبہ ارشاد فرمارے تے_
ڈعول ماشو ںکی آوازمسں ش کر لوگ بے مین ہو گے ال12 آدمیوں کے سوابائی سب نٹ کی طرف دوڑ
گے جہاں الہ اتر اہو اتھا۔ اس ش نکی ردایات ٹیل سب سے اد تر رواببت نخرت جاہر بن عب ال کی
سے جے ایام تہ اریء مسلمء ت ری ابد خواشہء عب بن یرہ ابو لی وغی جم نے معز رسنروں سے کنل
کیا ے۔ اس می اقطراب صرف یس ےک کی ددایت یل بی نکیاگمیا ےکلہ یہ داقعہ نما کیا حاات شمل
ٹپ آیاتھا او “سی ٹیل مہ ےک یہ ئل وقت جن آیاجب جو خطبہ ےر سے جھے۔ لین حعضرت جار
اوردوسرے عحابہ و تا یی نکی تام روایا کوچ عکرنے سے جح بات یہ معلوم ہو تی ےک یہ دورائن خطہ کا
واتعہ سے اور تظخرت جابرنے ججہاں ب ہکھا ےکلہ یہ نماز جع کے دوران ٹیس یی آیاہء دہاں در اصل أُنہوں
نے خلے اور نماز کے مجھوعہ پر نماز جحع ہکا اطلا قکیاے۔ حضرت عحبد اید جن عپاس کی ردایت مل :یا نگیاگیا
ےک اس وقت 12 ردوں کے سماتھ عورف اتی روگئی تین (ائن ری )آادڈکا بان ےک12
ہو کے ما تک رت کر (ائن جم یر این الی حا تم )۔ دار شف کی ایک روایت می 40 اف راد اور
عمبد بن حمی کی روایت میل 7 نف بیان سے گئے ہیں۔ اور فزاء نے 88 نف مرکیسے ہیں لین ہہ سب ضیف
ردایات ہیں اور اد ہی ىہ روابیت بھی تجیف ےکہ اس رس کا داقعہ قین م رحبہ بی آ یا تھا(ابین جریر)۔
مع روایت نضرت جابر بن عحبد الٹ گی سے جس مل پائی رہ چانے والوں کی تر د12 ا یگ ے۔ اور
قاددکی ایک روایت کے سوا اتی قمام عابہ و ماش نکی روایات اس پر شض ہی کہ مہ واقعہ صرف ایک
مرعہ ٹیل آیا۔ بائی رو جانے والوں کے متحلق مفلف روای تکو ہگ کھرنے سے ممعلوم ہو ما ےکہ ان میں
ضرت ال ویر رت حر حضرت عثائء رت مل حطرت عبد ارڈ بن مسحودہ حظرت تما جن ار
حضرت سا مو لی حصیقہء اور حضرت چاب رین عبد اللہ شال تے حافظط او می نے نرت ابر بن عبد الد
کی جو روایت لف لک ہے اس میں جیا نکیاگیا ےککہ جب لوگ اس طرع نگ لکر لے گے اور صرف پارہ
اصحاب بائی رہ گے وا نکوخطا کرت ہو ۓ حور نے رایاوالذی نشی ہیں لتتابعتم حق لمیبق
منکم اصدالسال بکم الوادی نار اگر تم سب ے جات اور ای ک مھ باقی نہر جتا نیہ دادکی نگ سے ہہ
تی “_ اسی سے مت جلنا مضممون ابین مرددبہ نے ححضرت عبد اولدبنا رامک سے اور ائوکن جج یر نے اد دے
تح کاہے۔
شیعہ حضرات نے اس واققع کو بھی صحا ہن نکر نے کے ہے استعا لکیاسے۔ دہ سکتے ہی کہ سحاب کی اتی
بنڑی تعد اوک لے اور نما کو بچھوڑکر ارت او یل تما کی طرف دوڑ جانااس با تکاشموت ےک دو دنا
پوفت رج رن تے۔ لگ الک من نے عااخ ال ےجو طرف حال نے آنتضوں برک کے
یکیاجاسکناے۔ در اصمل یہ واقعہ بجرت کے بعد تق می زمانے بی بیس شی یآیاتھا۔ اس وقت ایک طرف تو
حا کی ما گی تز ببیت این الیم راعل می تیاور دوسرکی طر فکغاکہ نے اپنے انڑ سے رین لیب کے
اشدو ںکی مخت مواشی کہ ند یکر رھ تھی جج سکیا وجہ سے مرسیے مل اشیائۓ ضرورر تکمیاب ہوگئی
تھیں۔ ححضرت سن بھ ری فرماتے ہی ںکہ اس وقت مد نے میں لوگ بھوکوں مررسے ے اور میں بہت
ھی ہوئی تگیں (این جریر)۔ انس حالات یس جب ایک مخیاری قافل ہیا نو لوگ اتی ائ رٹ ےک کیں
7 2 00 0 چو
یمنزوری اور می تھی جو اس وقت ا اتک تز بی تک گی اور عالا تک تن کے باعت دو نماہوگئی شی
لن جو تخس بھی ان صحاہہکی وہ قربانیاں درک گاج اس کے بعد اخہوں نے اسلام کے لی کیہ اور یہ
دکھےگاکہ عبادات اور معاملات ٹیل ا نکی زندگیا ںکیے زیر دوست تنک کی شبادت دبتی ہیں ء دوہ رگز ےر
الزرام رک کی جم اآت نکر کے اکن کے اندر د ناک و آخرت پر تز نی دی ےکاکوٹی مرن ایا جات تھاء الا یہ
کہ اس کے اپنے ول میس صحابہ سے میٹ کا رن پا باج تاہو۔
اہم يہ واقعہ ٹس طرح صحا ”کے معقرضی نکی می می ںکر جا اسی طرع ان لوگوں کے خنیالا تک تام
بھی نی ںکرجاجھ صوا کی عقیرت میس غل کر کے اس ط رن کے د عو کرت ہی ںکمہ ان سے مھ یکوکی
شی سرزو نہیں ہوئیء یاہوئی بھی ہو ا سکا ذکر نی ںکر نا جا ہے کب وکہ ا نکی یکا وک رکرنااور سے
شی کہنا ا نکی نون ہہ اور اس سے ا نکی عزت و وقعت دولوں میں باقی نیس ر ہقیء اور کا کر ان
آیات داعادیث کے غلاف سے جن میں صا ہہ کے مففور اور مقپول ہا رگا والبھی ہون ےکی تص رت ےک یکئی سے۔
کی اتی ات شی کے کے رن یف ا نک تحت کے ان تن
دک مکزا ےککہ اللہ تعالی نے خود اس لع یکا ذک ہکیاسے ج صحاب کی ای فک رتعد اد سے صادر ہوگی تھی۔
ان سکاب مم لکیاسے صے قیامت تک ساری ام تکوپڑھناے۔ اور أ یکتتاب می لکیاسے جس میں ان کے
مفقور اور مقبول با راو ہون ےکی تص مر ےک یگئی ہے۔ پھر حدیث و تفسی کی فا مکنابوں میں صحابہ سے ل ےکر
بعر کے اکابر ایل سش کک نے اس لع یکی تفصیلات بیا نکی ہیں ۔کیا انس کے معن مہ ہی کہ ئل تی نے بہ
کر ابچی صعا کی و قعت دلول سے ہکا لے کے لی کیا سے مج نکی و قعت ووخودولوں میں تقائم فرمانا جا بتاے
؟ او رکیا ا کا مطلب بر ےک ہ صحاب اور ما یتین اور ح رشن ومفس رین نے اس بی ےکی ساری تفصیاات ال
ش ہی نے سے ناوا تی تکی رنا پر با نکر دی یں جو مہ لی خحقرات یا ننکیاکرتے ہیں ؟ او رکیانی الو انح
سورہ جمعہ یڑ ین وانے اور ا سکی فی کا لئے اکن دو ےکا کی وت نی سی
سے ؟ اگ ان میں سے ہر سوا لکا جو اب لف ی میس سے اور یقیا لف میس سے ذدو سب بے جاور مبالقہ آھیز
۱ میں خلط ہیں جو اترام صھاہ ےا سے نس لو کفک ارت ہیں۔
تقیقت بی ےککہ صصحا کرا مکو کی 1سالٰی محلوقی نہ تے بللہ اسی زمیکن پیر پیر اہہونے وانے انساوں میں سے
تھے وہ جو جھ بھی نے رسول ااڈد صلی الہ علبز وس مکی تر بیت سے ہبے۔ مہ تر بیت بنلر مک ساہہاسا کک
ا نکود یگئی۔ ا سکاجو طر یقہ قرآن وحدیٹ می سکع مکنظ رآ اہے ووىی ےک جب مھ ان کے اند ری
کھزورب یکا ظ پور ہواہ اید اور اس کے و سوأ نے بر وقت الگ مرف پوجہ فرمالیء اور فو راس نماض پیبلومٹیں
الیم وت بی ت کا ایک پدوگرام ش رو ہدگیاجس میں دوکھزدری پا گنی تی۔ ای نماز جحعہ کے معاممہ ہم
دبینے وی کہ جب 'قافلہ ارت والا داقعہ یٹ آ مات ال اہی نے سورد جم ہکا ریہ کو نازل فر مار انس یر تحبیہ
گیا اور جعہ کے آداب بتاے۔ پھر اس کے سماقدبی رسول الد صلی الد علیہ وصلم نے سمل اپنے خطبات
ا ری ین ریت جع ہک ایت لوگوں کے ز من نشین فربائیء جس کا کر ہم عاشیہ 15 میک نے بین
او رتفصبیل کے ساتھ ا نکو آداب جمع ہکی نمیم دگی۔ چنانچہ احعادیث یل یہ مارگ ہدایات ب مکوبڑیی وانح
صورت میں تی ہیں۔
حضرت الو سع'“ خدرییکا ان س ےک جو نے فرمایاہرمسلما نکو جع کے روز شس لک نا اہ ؛ دات
صا فکرنے چائیں, جو ایج ےھکپڑے ا سکو مسر ہوں بن ا نیںء اور اکر خوشبو مسر ہو نو اگالی جا بے
(مٹر اضر تار سم ء ابو داد ءزسا کی۲ حضرت سلمالن فا ر کت ہیں کہ تضھو نے فرما اج مسلران جع
کے روز شس لکرے اور تی الامکالن زیادہاپنے آ کو پاک صا فکرے مر میں تیل لگا یاجو خوشبوگھمر
یس موجودہودہلاۓے ء پھ رمسد جاۓ اور د ھآدمیو یکو اکر ان کے تچ میں ن ہکس ہ پھر ہی ہت الد فو نیقی
دے ای نماز (ففل )پڑت ہ پھر جب امام اونے نے امو رہے ہ اس کے تصصور یک ججعہ سے دوسرے
جحع ہک معاف ہو جاتے ہیں( بنارگیء مند اج قریب قریب اسی مو نکی روایات حخرت ابو الوب
ازع نت ال ےو رخضر ت تن لن ےکی حور ے نف کی مین نف اض از مم
ابوداؤدہ تر نرکیء طبرالی )۔ حضرت خبد ا بن عبا کے ہی کہ حضسور نے فرمایاجب امام خطبہ دے رہاہو
و لال مم وو رو یر
سے کی ےک چپ را“ أا س کچھ یکوکی بحعہ نیش ہوالمند اص )۔ حظرت الدہ یر کابیان ےکہ مضور
کر جب ےھ تد چپ رہ“ تو تمنے
یلت رک کی (بفاری, مسلءائ تنریء اید اود بلاج ردیات ما اصمء او داود اود
طرائی نے حطرت عل اور حضرت اہو الد رواٹ سے لف لک ہیں۔اس کے ساتق آ یی نے خطیبو ںکو بھی
رایت فرماٹ یک لیے لیے خلے در ےکر لوگو ںکو بتک ن ہکریں۔ آپ خود بت کے روز عفر خطبہ ارشاد
رات اور نماز بھی زیادہ نی نہ بڑھاتے ے۔ حظرت جابڑبن سمرہ کت ہی کہ حضور طویل خطبہ نیں
دن تھے وواس چند منض رککرات ہوتے تے (الو داور)۔ حخرت پر الد اہن الی ادکی کے ہی ںآ کا
خی فا زی یپ نکر ہج خھا اور خا زاین نبا ذو لو ہو ی تعھی (قمائی) خفرت مائنین پاض کی
ردایت ےک آسپ نے فرمایا آدی یکی نما زکا طویل ہونا اور جن ےکا خنقمر ہوا اس با تکی علاصت ےک دہ
دی نکی بج رکتناے(مند احر, مس لم )۔ تقریما بی مصممون بزار نے حنرت عب ال گن مم ررۓ شک
ے۔الن ہاو سے اندازہہو ا ےک حفمورن ےکس طرلوگو ںکو بقتے کے آداب سکھاۓ بیہا ںیت کہ
اس نمازکی ددشان مقائ ہوئی جن سک نر د اک کسی قو مکی اجقاعی عبادت میس نیس پاگی حعاتی-
سورۃ الجمعۂ حاشیہ تمبر:20 ھ
بی فقروخودبار ا ےک صھارے جو لی ہوگی تھی ا سک فو عی کیا شھی۔ اگر معاذ الا سکیا دج اما نکی
ھی اور آخرت پر دای دانستہ تر نع ہوٹی و الد تعالی کے غضب اور ز تر وک اند از مھ اور ہوت_ لین
چوکنہ ای قکوکئی خرالپی وہاں شہ شی ء بکمہ ج اھ ہو ا تھاتر بی تک کی کے باعت ہوا تھاء اس لیے سے معارمانہ
اندازی مھ کے آواب بناۓ گئے ,لایس لی ی رگرفف کر کے رمبانہ انداز یٹس سمچھا اگ یاکہ جئھ ےکا
خطلبہ نے اور ا سک نماز اداکرنے پر جھ بی لاہ کے ہاں لے گادہاس د نی خفیارت اد رکیل خاشوں
نے انٹرے۔
سورۃ الجمعۂ حاشیہ شمبر: 21 ھ
نی اس دیائیس ازج بھی رزق رسا یکا ذد مہ بنتے ہیں ان سب سے ؟بر رازق الد تال ی ے۔ اس طرح
کے لے ٹر آلن یر میس متعددمقامات پر آ ہیں۔ ہیں ال تعالی وا خسن الاکن 7 اکیاےکہہیں خر
الفافرین ہیں خی الیاکھین ہکریں خر ال زاین مکہیں خی الناصرمن۔ ان سب مقامات پر عو قکی طرف
رزقی, تحلیقی, مخفرت,ء رحم اور نصر کی نسبت مھازیی ہے اور اللہ تعا یکی طرف تی مطلب بہ سےکہ
جو لوگ بھی ابی ت مک و تاد أجرت یاروٹی د نے نظ رآت ہیںء پاچ لوگ بھی اپتی صضحت وکا رج ری سے
ہے جاک نظ رآتے ہیں باجھ لوگ بھی دوسروں کے تصور معا کرت اور دوسرول پیر رق مکھاتے اور
دوسرو ںی مددکرتے نظ رآتے ہیں ء اللدآن سب سے مہتررازق: خالقءر بی ء خفور اور مد دگار ے۔